Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD750.00 USD785.00

Pay in 4 interest-free payments of $187.50 Learn more

Kulyat Mustafa Zaidi - کلیات مصطفے زیدی chiragh akhar shab ظفر محمود، کیڈٹ کالج حسن

SKU: 72229172059
4.4

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 29 - Sep 3

Description

ظفر محمود، کیڈٹ کالج حسن ابدال اور گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1976ء میں ڈی ایم جی، حال (PAS) گروپ سے سرکاری نوکری کا آغاز۔ ملازمت کے دوران1984ء میں مانچسٹر یونی ورسٹی، 1987ء میں آرتھر ڈی لٹل انسٹی ٹیوٹ،بوسٹن، 1989ء میں سٹیٹ ڈِپارٹمنٹ، واشنگٹن اور 2007ء میں ہارورڈ یونیورسٹی سے مزید تعلیم۔ 1992ء سے 1995ء تک استنبول میں کونسل جنرل کی ذمے داری، نوکری کے آخری دور میں چھے مختلف وفاقی وزارتوں ، ٹیکسٹائل، کامرس، پٹرولیم، کابینہ، انڈسٹری اور پانی و بجلی میں فیڈرل سیکرٹری۔ رِٹائرمنٹ کے بعد پنجاب پبلک سروس کمیشن میں چیئرمین کی تعیناتی اور واپڈا کی سربراہی۔ کالا باغ ڈیم سے متعلق حقیقتیںاجاگر کرنے کے لیے انگریزی میں "Sifting Facts from Fiction" کے عنوان سے مختلف اخباری کالموں، بعد کو اُردو میں ’’حقیقت کیا، فسانہ کیا‘‘ کتاب کی اشاعت پر حکومتِ وقت کے سیاسی بوجھ میں اضافے کے پیشِ نظر عہدے سے ازخود مستعفی۔ ظفر محمود کے ہم عصر جانتے ہیں کہ ملازمت کے دوران وہ نہ کبھی عہدوں کے اسیر رہے، نہ ان کے بے داغ کردار پر کسی نے انگشت نمائی کی ۔ کئی بار انھیں او ایس ڈی بنایا گیا۔ بنیادی طور پر وہ ایک قلم کار ہیں۔ اِسی وقفے کے دوران قلم سے اُن کا رشتہ قائم رہا اور اُن کے افسانوں کا مجموعہ ’’دائروں کے درمیاں‘‘ بھی شائع ہوا۔ ظفر صاحب کی تحریروں کا مرکز دھرتی سے جُڑے وہ لوگ ہیں جن کے گرد بےشمار نفسی و سماجی مسائل، اعتقاد و اعتماد اور ارادت مندی کی سعادت نے دائرے کھینچ دیے ہیں۔ عدم برداشت کی دیواریں اُونچی ہوتی جا رہی ہیں۔ لکھنے والے کا قلم اِرد گرد کے ماحول سے بےنیاز نہیں رہ سکتا۔ اُن کے بہ قول شاید اُن کی تحریریں بھی بڑھتے ہوئے معاشی انحطاط سے متاثر ہوں۔ زیرِ نظر کتاب میں، قارئین کو وہ چشم کشا تجربے اور ناقابلِ فراموش مشاہدے نظر آئیں گے جن سے ایک بیوروکریٹ کی حیثیت سے، اقتدار کی غلام گردشوں میں اُن کا واسطہ رہا۔ بیوروکریٹ کی زندگی ایک حیرت کدے کاسفر ہوتا ہے۔ ظفرمحمود کے ساتھ اِس سفر میں قاری کی شرکت اُس کی سوچ میں نئے دریچے وا کرتے ہوئے، معاشرے کے اُن نہاں خانوں کا پتا دیتی ہے جو دیکھتی آنکھوں کو نظر نہیں آتے۔

اجنبی مکین

علی اکبر ناطق ایک عجیب سا لااُبالی نوجوان ہے جس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اگلے لمحے آپ کا دُشمن ہو جائے یا فوراً ہی آپ کو گلے لگا لے لیکن یہ طے ہے کہ افسانے، ناول یا شاعری میں اس کی صلاحیتیں بلاخیز ہیں۔ اس کا افسانوی مجموعہ ’’شاہ محمد کاٹانگہ‘‘ ایسا ہے کہ اُردو ادب کا ایک سراسر نیا رُوپ اس میں سواری کرتا نظر آتا ہے۔

اس کتاب میں سب عام کہانیاں ہیں۔ آپ اگر بڑے لوگوں کی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر یہ کتاب آپ کے کام کی نہیں ہے۔ اس کتاب میں، مَیں نے عام انسانوں کے دُکھوں اور غموں کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرے ہیرو عام لوگ ہیں، وہی میرے رول ماڈل ہیں۔ میں نے خود اپنے ماں باپ کو ایک دُور دراز گاؤں میں اسی طرح مشکلات اور دُکھوں میں گھرے دیکھا۔ انہیں ساری عمر جدوجہد اور محنت کرتے دیکھا، انہیں مسلسل آزمائشوں کا شکار دیکھا، اس لیے شروع سے ہی میرے ہیرو وہی لوگ تھے۔ میں کسی بڑے آدمی سے متاثر نہ ہو سکا یا یوں کہہ لیں کہ ذِلتوں کے مارے لوگ ہی میری انسپائریشن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا انتساب میں نے گاؤں کے ایک کمہار چاچا میرو کے نام کیا ہے جس پر لکھی گئی ایک طویل کہانی آپ کو کئی دن چین سے نہیں سونے دے گی۔ یہ کہانی میری زندگی میں اتنی اہم ہے کہ اسی پہ کتاب کا نام رکھ دیا ہے۔ اس کتاب میں شامل ہر کہانی سچی ہے، یہ انسانی المیوں، دُکھوں اور غموں کی ایسی داستانیں ہیں جو ضرور آپ کے دل کو گداز کر دیں گی اور ہو سکتا ہے کہ کئی بار آپ کی آنکھیں بھی بھیگ جائیں۔

Kulyat Mustafa Zaidi - کلیات مصطفے زیدی chiragh akhar shab ظفر محمود، کیڈٹ کالج حسنPages: 645 Category: Poetry 10 1930 . 19 1952 1954 1956 . . . 1969 . . 1969 1970 . 303 . . 12 1970 . . . : : . :

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products