Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
PLN300.00 PLN342.00

Pay in 4 interest-free payments of $75.00 Learn more

Aurat Zaban I Khalq Se Zaban Hal Tak - عورت زبان خلق سے زبان حال تک russia جب علی اکبر ناطق نے

SKU: 20795275094
4.7

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Oct 2 - Oct 7

Description

جب علی اکبر ناطق نے فون پر مجھ سے کہا تھا، ’’اس کو جلدی پڑھنے کی کوشش کیجیے گا۔‘‘ تب میں خوب ہنسی تھی۔ لیکن ہوا تو یہی، ایک دفعہ کتاب شروع کی تو اس ابتدائی مشکل کے ختم ہونے کے بعد میں نے ’’نولکھی کوٹھی‘‘ ناول کو پڑھنا شروع کیا تو آخری صفحے تک پڑھتی ہی چلی گئی۔ یہ جیسے کوئی آنکھوں دیکھا قصہ تھا جس کی سچائی نے ذہن کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس نے مجھ کو اُداس اور سنجیدہ چھوڑا۔ علی اکبر کی تحریر پڑھتے ہوئے آپ انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ جب آپ اس علاقے کو اپنے ندی نالوں، پیڑ پودوں، پھلوں، پھولوں، جانوروں، مکانوں اور حویلیوں، برتن بھانڈوں، سبزی ترکاریوں اور فصلوں، غلوں اور دالوں، آبادی کے مختلف حصوں، اس کے سماج کی تہہ داریوں، اس کے طبقاتی پیچ و خم اور جوڑنے والی ڈوریوں، افراد اور ان کے عمل سے نکلتا دیکھتے ہیں۔ جبکہ اس پر رومانیت کی چھوٹ بھی نہ پڑی ہو۔ یہ تحریر سوشل ریئلزم یعنی حقیقت نگاری کا ایک ایسا نادر و نایاب نمونہ ہے جسے ادب میں حالیہ مقبول اور کارآمد ٹیکنیک میجک ریئلزم کی ضرورت نہیں پڑی۔ حقیقت خود میجک میں تبدیل ہو گئی ہے جس سے بڑے بڑے سینئر ادیب سبق لے سکتے ہیں۔ ’’نولکھی کوٹھی‘‘ کے بیانیے کی زبان ایک خاص انداز کی ہے جو متن کے اندر سے خود بخود پھوٹتی معلوم ہوتی ہے۔ پنجابی الفاظ اور پنجابی دیہی طریقہ اظہار سے مملو، روں دواں اور انٹیمیٹ۔ لیکن انگریز کرداروں کی عکاسی میں اور ان کی بات چیت دوہرانے میں یہ زبان اور طریقہ اظہار ناکام رہتا ہے اور غیرحقیقی لگنے لگتا ہے۔ یہ اس ناول کی واحد کمزوری ہے کہ انگریز کردار انگریز نہیں لگتے۔ میرا خیال ہے کہ کتاب کے انگریزی ترجمے میں یہ خامی تو خود بخود غائب ہو جائے گی۔ تو مبارک باد علی اکبر ناطق کو۔ جو ایک شاندار ادیب ہے۔ قابلِ احترام، قابلِ محبت اور قابلِ رشک

They make them at the dinner table

قیسی رامپوری (پیدائش: 20 جون 1908ء - وفات: 10 فروری 1974ء)، اُردو زبان کے معروف مصنف، ناول نگار، ڈراما نویس، مترجم اور افسانہ نگار تھے۔ وہ صاحبِ اسلوب ادیب، تذکرہ نگار اور سفرنامہ نگار ملا واحدی دہلوی کے داماد تھے۔ قیسی کی جائے پیدائش رامپور ٹھہری۔ پہلے قیسی اجمیری کے نام سے بھی لکھتے رہے۔ اصل نام حامد الدین خلیل الزماں خان، والد بزرگوار کا نام محمد زمان خان، سلسلۂ نسب چونتیسویں پشت میں حضرت قیس عبدالرشید سے جاکر ملتا تھا جن کا مزار کابل میں ہے۔ پردادا کابل سے نوشہرہ آکر آباد ہوگئے تھے۔ والد نے رختِ سفر باندھا اور ریاست کوٹہ آکر آباد ہوگئے۔ اپنے قیسی ہونے کے بارے میں ایک جگہ لکھتے ہیں، ’’قیسی نہ تو میرا تخلص ہے نہ جناب قیس عامری کی لیلیٰ پرست ذات سے میرا کوئی تعلق ہے۔‘‘ فکرِ معاش سے آزاد ہوکر ادیب فاضل کا امتحان دیا، اس کے بعد منشی فاضل کا اور آخر میں انٹر کا۔ ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز اجمیر سے ہوا۔ رسالہ کیف میں پہلا افسانہ ’’ایثارِ مجسم‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ وہاں ان کی ملاقات رفیعی اجمیری سے ہوئی۔ کچھ عرصہ خواجہ حسن نظامی کے ہاں دہلی میں بھی قیام کیا۔ ادب میں انھوں نے ناول نگاری کے حوالے سے اپنی الگ پہچان بنائی۔ معاشرتی، سماجی اور تاریخی موضوعات پر لاتعداد ناول تحریر کیے جس کا سلسلہ تقسیمِ ہند کے بعد ان کی وفات تک جاری رہا۔ ان کے ناولوں کی تعداد 100 سے زائد ہے جن میں رضیہ سلطانہ، چاند بی بی، ٹیپو شہید، آخری فیصلہ، خیانت، نکہت، اچھے دن، عمو، انجم، اپاہج، برہنہ، بے آبرو، چوراہا، دل کی آواز، فرزانہ، حُور، ابلیس، اجالا، تیسرا راستہ، فردوس، کلیم وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔ تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کے کچھ ادبی جرائد کی ادارت بھی کی۔ ایک تخلیق کار، مترجم اور ادیب کے طور پر قیسی نے بھرپور زندگی گزاری۔ انھوں نے اپنی تخلیقی قوت، زورِتخیل، فنی ہنرمندی اور اندازِ بیان کی سادگی و جاذبیت کے ذریعے بیسویں صدی کی وسطی دہائیوں میں اردو کے افسانوی ادب کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے تاریخ کے موضوع پر ایک کتاب ’’دوسری جنگِ عظیم کے ہولناک واقعات‘‘ بھی تحریر کی۔ ناولوں کے تراجم بھی کیے، جن میں وِلا کیدر کے ناول ’’My antonia‘‘ کا ترجمہ ’’ویران ہے دل‘‘ خاصا مقبول ہوا۔ تھامس ہارڈی کے مشہور ناول ’’Jude the obscure‘‘ کا ترجمہ کیا تو اس کا عنوان سیماب اکبری آبادی نے ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ تجویز کیا۔ پاکستان آنے کے بعد بھی قیسی کا قلم نہیں رکا بلکہ بےشمار ناول لکھتے رہے، وہ اپنے وقت میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناول نگار مانے جاتے تھے۔ قیسی رام پوری 10 فروری 1974ء کو بعارضہ قلب کراچی میں انتقال کر گئے۔

Pages: 320

Aurat Zaban I Khalq Se Zaban Hal Tak - عورت زبان خلق سے زبان حال تک russia جب علی اکبر ناطق نےPages: 356 Category: Philosophy & Psychology

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products