Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD550.00 USD585.00

Pay in 4 interest-free payments of $137.50 Learn more

Tareek Raahon Kay Musafir - تاریک راہوں کے مسافر pakistan by maliha lodhi And even fewer people know

SKU: 18847744505
4.2

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Oct 1 - Oct 6

Description

And even fewer people know how to fill that emptiness

’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ کے مصنف شمس الرحمٰن فاروقی اُردو دنیا کی ایسی عہدساز شخصیت ہیں جن کے کام، علمی توفیقات اور تخلیقی امتیازات کا ہر سطح پراعتراف کیا گیا۔ ہندوستانی حکومت نے انہیں ’’پدم شری ‘‘ جیسا بڑا ایوارڈ دیا تو حکومت پاکستان کی طرف سے ’’ستارۂ امتیاز‘‘ کے حق دار ٹھہرائے گئے۔ خلاق شاعر، مجتہد نقاد، دانشور اور شب خون جیسے رجحان ساز رسالے کے مدیر اور سب سے بڑھ کر ایسے ناول نگار جنہوں نے اپنے فن پارے کو تہذیبی مرقع بنا کر اس صنف پر امکانات کے نئے آفاق کھول دیے۔ شمس الرحمٰن فاروقی ۱۵جنوری ۱۹۳۶ء کو پرتاب گڑھ، یوپی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ علم وفضل کی قدیم روایت اپنے بزرگوں سے وراثت میں پائی۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے ۱۹۵۳ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔ مقابلے کا امتحان پاس کرکے اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے ۔ ادبی رسالہ’’شب خون‘‘ نکالا اور کئی نسلوں کے ادیبوں کی تربیت کی۔ شمس الرحمٰن فاروقی ’’گنج سوختہ‘‘، ’’سبز اندرسبز‘‘، ’’چارسمت کا دریا‘‘، ’’آسماں محراب‘‘، ’’سوار اوردوسرے افسانے‘‘، ’’افسانے کی حمایت میں‘‘، ’’لفظ ومعنی‘‘، ’شعر شور انگیز‘‘، ’’عروض، آہنگ اور بیان‘‘، ’’اُردو غزل کے اہم موڑ‘‘، ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘، ’’قبض زماں‘‘ اور زیر نظر شاہکار ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ کے مصنف ہیں۔

and progressively became the most powerful institution

ملتان کے چار درویش ایسے درویش تھے کہ جن کی محفلوں نے مجھے محبّت کی نئی منزلوں سے آشنا کرایا۔ باقر شاہ کا اپنے بچوں کو کہنا کہ میرا دل چاہتا ہے رؤف کو بھی اپنے بچوں کی طرح جائیداد میں حصہ دوں یا چودھری نیاز جیسا عظیم اور درویش انسان جو رات کو عشا کی نماز سے گھر واپسی پر اپنے بیٹے کی گاڑی میں سے ٹیپ چوری کرتے چور کو اندر سے پیچ کَس لا دے کہ اس سے کھول لو بیٹا۔ چور ڈر جائے تو اسے تسلّی دے اور کہے، کوئی بات نہیں آپ کو اس کی ضرورت ہو گی۔ چودھری نیاز جیسی معصومانہ مسکراہٹ میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ یا اس سولہ سالہ بیٹی کی کہانی جب اچانک اسے پتا چلا کہ اس کا باپ تو مافیا کے لیے لوگوں کو قتل کرتا تھا۔ ہمارے ہاں ایسے بچے کیوں پیدا نہیں ہوتے؟ یہ کہانی بھی آپ کو ہلا کر رکھ دے گی۔

Tareek Raahon Kay Musafir - تاریک راہوں کے مسافر pakistan by maliha lodhi And even fewer people knowPages: 304 Category: Novel, Translated Novel Author: Honore de Balzac Translated By: Rauf Klasra : (1799 1850) : (1799 1850) 1820 1824 "The Chouans" : 1993 APNS 92 2007 2011

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products